उर्दू अदबबिहारवैशालीस्वतंत्र विचार

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی فضیلت واہمیت

Urdu adab

User Rating: Be the first one !

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی فضیلت واہمیت ۔
قارئینِ کرام ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے وہ کسی بھی معاملے میں کسی کا محتاج نہیں اس نے اپنی قدرت کاملہ سے اس دنیا کو وجود بخشا پھر اس کو طرح طرح سے سجایا اور انسانوں کو اس میں بسایا اور انسانوں کی ہدایت کے لیے وقتا فوقتا رسل اور انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا وہ اگر چاہے تو انبیاء علیہم السلام کے بغیر بھی انسانوں کی اصلاح کا سکتا ہے لیکن اس کی مشیت کچھ اسی طرح ہے اور اس نے یہی پسند فرمایا ۔
اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے انبیاء علیہم السلام اسی لیے بھیجے جاتے تھے کہ تو اس کے بندوں کو نیکی اور بھلائی کی دعوت دیں، پسندیدہ اعمال و اخلاق اور ہر طرح کے اعمال خیر کی طرف ان کی رہنمائی کریں اور ہرنوع کی برائیوں سے ان کو روکنے اور بچانے کی کوشش کریں تاکہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالی کی رحمت اور رضا کے مستحق ہوں اور اس کے غضب اور عذاب سے محفوظ رہیں۔ جب خاتم النبیین سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا تو قیامت تک کے لئے اس پیغمبرانہ کام کی پوری ذمہ داری آپ کی امت کے سپرد کردی گئیں تاکہ لوگ خود ہی آپس میں ایک دوسرے کی اصلاح کرتے رہیں اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے اس اہم فریضہ کو پوری ذمہ داری سے انجام دیتے رہیں اور اس طرح رہتی دنیا تک ہر مسلمان اپنی اپنی جگہ مبلغِ اسلام ہے وہ جس کسی شعبہ سے تعلق رکھتا ہو یعنی خواہ وہ عالم ہو یا امام مسجد امیر ہو یا غریب پوری امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی لیاقت و صلاحیت کے مطابق اپنے گرد و پیش کے ماحول کو سنتوں کے سانچے میں ڈھالنے لئے کوشاں رہے اور صلوٰۃ و سنت کی تحریک زندگی کے آخری ایام تک جاری وساری رکھے ۔
قرآن پاک میں فرمایا گیا ۔ مفہوم ۔ اور لازم ہے کہ تم میں ایک ایسی امت ہو جو لوگوں کو دعوت دے خیر اور بھلائی کی اور حکم کرے معروف ( اچھی باتوں)کا اور روکے ہر طرح کی برائیوں سے اور وہی بندے فلاح یاب ہوں گے (جو یہ فریضہ ادا کریں گے)۔
پھر چند ہی آیتوں کے بعد اسی سورت میں فرمایا گیا ۔
مفہوم ۔ اے پیروان محمد ۔ (تم تمام امتوں میں)وہ بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح و ہدایت) کے لئے ظہور میں لائ گئی ہے تمہارا کام (اور تمہاری ذمہ داری) یہ ہے کہ نیکی کا حکم دیتے ہو برائی سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو (اور ایمان والی زندگی گزارتے ہو ۔)
مسلمانوں کی (چودہ سو بائیس) سالہ زندگی کو جب تاریخ کے اوراق میں دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم عزت و عظمت شان و شوکت دبدبہ و حشمت کے تنہا مالک اور اجارہ دار ہیں لیکن جب ان اوراق سے نظر ہٹا کر موجودہ حالات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو ہم انتہائی ذلت و خواری افلاس و ناداری میں مبتلا نظر آتے ہیں ہے نہ شان و شوکت ہے نہ باہمی اخوت و الفت نہ عادات اچھی نہ اخلاق اچھے نہ اعمال اچھے نہ کردار اچھے ہر برائی ہم میں موجود اور ہر بھلائی سے کوسوں دور اغیار ہماری اس زبوں حالی پر خوش ہیں اور برملا ہماری کمزوری کو اچھالا جاتا ہے اور ہمارا مضحکہ اڑایا جاتا ہے اسی پر بس نہیں بلکہ خود ہمارے جگر گوشے نئی تہذیب کے دلدادہ نوجوان اسلام کے مقدس اصولوں کا مذاق اڑاتے ہیں بات بات پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں اور اس شریعتِ مقدسہ کو ناقابلِ عمل، لغو اور بیکار گردانتے ہیں۔ عقل حیران ہے کہ جس قوم نے دنیا کو سیراب کیا وہ آج کیوں تشنہ ہے؟ جس قوم نے دنیا کو تہذیب و تمدن کا سبق پڑھایا وہ آج کیوں غیر مہذب اور غیر متمدن ہے؟ آج جب کہ حالت بد سے بدتر ہو چکی اور آنے والا زمانہ سابق سے بھی زیادہ پر خطر اور تاریک نظر آرہا ہے ہمارا خاموش بیٹھنا اور عملی جدوجہد نہ کرنا ایک ناقابلِ تلافی جرم ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ کوئی عملی اقدام اٹھائیں ضروری ہے کہ ان اسباب پر غور کریں جن کے باعث ہم اس ذلت و خواری کے عذاب میں مبتلا کئے گئے ہیں ہماری اس پستی اور انحطاط کے مختلف اسباب بیان کیے جاتے ہیں لیکن ہر تدبیر ناموافق و ناکام ثابت ہوئی جس کے باعث ہمارے رہبر بھی یاس و ہراس میں گھرے نظر آتے ہیں۔ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہماری شریعت ایک مکمل قانونِ الہی ہے جو ہماری دینی اور دنیاوی فلاح و بہبود کا تا قیامِ قیامت ضامن ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم خود ہی اپنا مرض تشخیص کریں اور خود ہی اس کا علاج شروع کر دیں بلکہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ قرآنِ پاک اور احادیثِ نبویہ سے اپنا مرض معلوم کریں اور اسی مرکز رشدوہدایت سے طریق علاج معلوم کرکے اس پر کار بند ہوں ۔ مسلمانوں کی عزت شان و شوکت سربلندی و سرفرازی اور ہر برتری و خوبی ان کی صفت ایمان کے ساتھ وابستہ ہے اگر ان کا تعلق خدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مستحکم ہے (جو ایمان کا مقصود ہے) تو سب کچھ ان کا ہے اور خدانخواستہ اس رابطہ و تعلق میں کمی اور کمزوری پیدا ہو گئی تو پھر سراسر خسران اور ذلت و خواری ہے بہرحال سلسلۂ نبوت ختم ہو جانے کے بعد اس پیغمبرانہ کام کی پوری ذمہ داری ہمیشہ کے لئے امت محمدیہ پر عائد کر دی گئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اپنے ارشادات میں وضاحت فرمائی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو امتی اس ذمہ داری کو کماحقہ ادا کریں وہ گے اللہ تعالی کے کیسے عظیم انعامات کے مستحق ہوں گے اور جو اس میں کوتاہی کریں گے وہ اپنے نفسوں پر کتنا بڑا ظلم کریں گے اور ان کا انجام اور حشر کیا ہوگا ۔
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی نیک کام کی طرف ( کسی بندے کی) رہنمائی کی تو اس کو اس نیک کام کے کرنے والے بندے کے اجر کے برابر ہی ثواب ملے گا۔ (صحیح مسلم)
اس حدیث کا مطلب و مدعااس مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ مثلاً ایک شخص نماز کا عادی نہیں تھا آپ کی دعوت و ترغیب اور محنت کے نتیجہ میں وہ پابندی سے نماز پڑھنے لگا اور قرآن پاک کی تلاوت اور ذکر اللہ سے غافل تھا آپ کی دعوت اور کوشش کے نتیجہ میں وہ قرآن پاک کی روزانہ تلاوت کرنے لگا ذکر و تسبیح کا بھی عادی ہوگیا وہ زکوۃ ادا نہیں کرتا تھا آپ کی مخلصانہ دعوت و تبلیغ کے اثر وہ سے زکوٰۃ بھی ادا کرنے لگا اسی طرح اور بھی اعمال صالحہ کا پابند ہو گیا تو اس کو عمر بھر کی نمازوں ذکر و تلاوت زکوٰۃ و صدقات اور دیگر اعمال صالحہ کا جتنا اجر و ثواب آخرت میں ملے گا ( اس حدیث کی بشارت کے مطابق) اللہ تعالی اتنا ہی اجر وثواب بطور انعام کے اپنے لامحدود خزانۂ کرم سے اس داعی الی الخیر بندے کو بھی عطا فرمائے گا جس کی دعوت و تبلیغ نے اس کو ان اعمال صالحہ پر آمادہ کیا اور عادی بنایا واقعہ یہ ہے کہ اس راستہ سے جتنا اجر و ثواب اور آخرت میں جو درجہ حاصل کیا جا سکتا ہے وہ کسی دوسرے راستہ سے حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندے نے کسی نیکی کے راستہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی تو اس داعی کو ان سب لوگوں کے اجروں کے برابر اجر ملے گا جو اس کی بات مان کر نیکی کے راستہ پر چلیں گے اور اس کی وجہ سے ان عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اور اسی طرح جس نے لوگوں کو گمراہی اور بدعملی کی دعوت دی تو اس داعی کو ان سب لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا جو اس کی دعوت پر اس گمراہی اور بدعملی کے مرتکب ہوں گے اور اس کی وجہ سے ان لوگوں کے گناہوں میں اور ان کے عذاب میں کوئی کمی نہیں ہوگی ۔ (صحیح مسلم)
اس حدیث میں داعیان حق و ہدایت کو بشارت سنانے کے ساتھ داعیان ضلالت کی بدانجامی بھی بیان فرمائی گئی ہے حقیقت یہ ہے کہ جن خوش نصیبوں کو دعوتِ الی الخیر اور ارشاد و ہدایت کی توفیق ملتی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کے مشن کے خادم اور ان کے لشکر کے سپاہی ہیں ۔ اور جن کی بدبختی نے ان کو گمراہی اور بدعملی کا داعی بنا دیا ہے وہ شیطان کے ایجینٹ اور اس کے لشکری ہیں اور ان دونوں کا انجام وہ ہے جو اس حدیث میں بیان فرمایا گیا ۔
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی تاکید اور اس میں کوتاہی پر تنبیہ ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اہل ایمان اس پاک ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم پر لازم ہے اور تم کو تاکید ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے رہو یعنی اچھی باتوں اور نیکیوں کی لوگوں کو ہدایت و تاکید کرتے رہو اور بری باتوں اور برے کاموں سے روکتے رہو یا پھر ایسا کہ اس معاملہ میں تمہاری کوتاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں کرو گے اور تمہاری دعائیں قبول نہیں کی جا ئیں گی ۔(جامع ترمذی)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو واضح الفاظ میں آگاہی دی ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن لمنکر میری امت کا ایسا اہم فریضہ ہے کہ جب اس کی ادائیگی میں غفلت اور کوتاہی ہوگی تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وہ کسی فتنہ اور عذاب میں مبتلا کر دی جائے گی اور پھر جب دعائیں کرنے والے اس عذاب اور فتنہ سے نجات کے لئے دعائیں گے تو ان کی دعائیں بھی قبول نہ ہوں گی ۔
اس میں قطعاً شبہ کی گنجائش نہیں کہ صدیوں سے یہ امت طرح طرح کے جن فتنوں اور عذابوں میں مبتلاہے اور امت کے اخیار اور صلحاء کی دعاؤں اور التجاؤں کے باوجود ان عذابوں سے نجات نہیں مل رہی ہے تو اس کا بہت بڑا سبب یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے امت کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جو ذمہ داری سپرد کی تھی اور اس سلسلہ میں جو تاکیدی احکام دئیے تھے اور اس کا جو عمومی نظام قائم فرمایا تھا وہ صدیوں سے تقریباً معطل ہے امت کی مجموعی تعداد میں اس فریضہ کے ادا کرنے والے فی ہزار ایک کے تناسب سے بھی نہیں ہیں ۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالی نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلاں بستی کو اس کی پوری آبادی کے ساتھ الٹ دو جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا خدا وندا اس شہر میں تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے کے برابر بھی کبھی تیری نافرمانی نہیں کی اللہ تعالی کا حکم ہوا کہ اس بستی کو اس بندے پر اور اس کے دوسرے سب باشندوں پر الٹ دو کیوں کہ کبھی ایک ساعت کے لئے بھی میری وجہ سے اس بندے کا چہرہ متغیر نہیں ہوا ۔(شعب الایمان للبیہقی)
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے پہلے کسی زمانہ کا یہ واقعہ بیان فرمایا کہ کوئی بستی تھی جس کے باشندے عام طور سے سخت فاسق فاجر تھے اور ایسی بد اعمالیاں کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے قہر و جلال کا باعث بن جاتی ہیں لیکن اسی بستی میں کوئی ایسا بندہ بھی تھا جو اپنی ذاتی زندگی کے لحاظ سے اللہ تعالی کا پورا فرمانبردار تھا اس سے کبھی معصیت سرزد نہیں ہوئی تھی مگر دوسری طرف اس کا حال یہ تھا کہ بستی والوں کے فسق و فجور اور ان کی بد اعمالیوں پر کبھی اس کو غصہ بھی نہیں آتا تھا اور اس کے چہرے پر شکن بھی نہیں پڑتی تھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی اس درجہ کا جرم تھا کہ جبرئیل علیہ السلام کو حکم ہوا کہ بستی کے فاسق فاجر باشندوں کے ساتھ اس بندے پر بھی بستی کو الٹ دو ۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مثال ان لوگوں کی جو اللہ کی حدود اور اس کے احکام کے بارے میں مداہنت یعنی سہل انگاری اور ڈھیلے پن سے کام لیتے ہیں روک ٹوک نہیں کرتے اور ایسے لوگوں کی جو خود اللہ کی حدود کو پامال اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ایک ایسے گروہ کی سی مثال ہے جو باہم قرعہ اندازی کرکے ایک کشتی پر سوار ہوا تو کچھ لوگوں نےکشتی کے نیچے کے درجہ میں جگہ پائی اور کچھ نے اوپر والے درجہ میں تو نیچے درجہ والا آدمی پانی لے کر اوپر کے درجہ والوں پر سے گزرتا تھا اس سے انہوں نے تکلیف محسوس کی اور اس پر ناراضی کا اظہار کیا تو نیچے کے درجہ والے نے کلہاڑا لیا اور لگا سوراخ کرنے کشتی کے نیچے کے حصہ میں تاکہ نیچے ہی سے دریا سے براہ راست پانی حاصل کر لے اور پانی کے لئے اوپر آنا جانا نہ پڑے تو اوپر کے درجہ والے اس کے پاس آئے اور کہا کہ تم کو کیا ہو گیا ہے یہ کیا کر رہے ہو اس نے کہا کہ پانی کے لئے میرے آنے جانے سے تم کو تکلیف ہوئی اور تم نے ناراضی کا اظہار کیا اور پانی تو زندگی کی ناگزیر ضرورت ہے میں دریا سے پانی حاصل کرنے کے لئے یہ سوراخ کر رہا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اگر یہ کشتی والے اس آدمی کا ہاتھ پکڑ لیں اور اس کشتی میں سوراخ نہ کرنے دیں تو اس کو بھی ہلاکت سے بچالیں گے اور اپنے کو بھی اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور کشتی میں سوراخ کرنے دیں گے تو اس کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیں گے اور اپنے کو بھی سب ہی غرقاب ہو جائیں گے (صحیح بخاری)
حدیث کا پیغام یہ ہے کہ جب کسی بستی یا کسی گروہ میں اللہ تعالیٰ کی حدود پامال کی جاتی ہوں اور اس کے احکام کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوتی ہو وہ بداعمالیاں ہوتی ہوں جو خدا تعالیٰ کے قہر و عذاب کو دعوت دیتی ہیں تو اگر ان میں کے اچھے اور نیک لوگ اصلاح و ہدایت کی کوشش نہیں کریں گے تو جب خدا کا عذاب نازل ہو گا تو یہ بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے اور ان کی ذاتی نیکی اور پرہیزگاری ان کو نہ بچا سکے گی ۔
شمشیر عالم مظاہری۔ دربھنگوی۔
امام جامع مسجد
شاہ میاں روہوا
ویشالی بہار

Tags

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!
Close